توحید کلمہ طیبہ

  • حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں جَو برابر بھلائی (ایمان)ہو تو وہ (ایک دن ضرور) دوزخ سے نکلے گا اور جس نے لا الہ الا اللہ کہا اس کے دل میں گیہوں برابر بھلائی ہو وہ (ایک نہ ایک دن ضرور) دوزخ سے نکلے گا اور جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں ذرے (چیونٹی) برابر بھلائی ہو وہ ایک نہ ایک دن ضرور دوزخ سے نکلے گا۔

    (بخاری ،جلد اول کتاب الایمان ،حدیث نمبر:42)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سے میں نے سوال کیا یارسول اللہ! قیامت کے دن آپؐ کی شفاعت کا سب سے زیادہ کون مستحق ہوگا (کس کی قسمت میں یہ نعمت ہوگی) آپؐ نے فرمایا ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) میں جانتا تھا کہ تجھ سے پہلے کوئی یہ بات مجھ سے نہیں پوچھے گا، کیونکہ میں دیکھتا ہوں تجھے حدیث سننے کی کتنی حرص ہے (اب سن لے) سب سے زیادہ میری شفاعت کا نصیب ہونا اس شخص کے لئے ہوگا، جس نے اپنے دل سے یا اپنے جی کے خلوص سے لا الہ الا اللہ کہا ہو۔

    (بخاری، جلد اول کتاب العلم ،حدیث نمبر:98)
  • حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مر تبہ حضرت معاذ ؓ ر سول اﷲ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے آپؐ نے فرمایا اے معاذ! انہوں نے عرض کیا حاضر ہوں یارسول اللہ! آپؐ نے فرمایا اے معاذ! انہوں نے عرض کیا حاضر ہوں یارسول اللہ! ( تین بارآپؐ نے معاذ کو پکارا پھر) فرمایا جو کوئی سچے دل سے یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بھیجے ہوئے رسول ہیں تو اللہ اس کو دوزخ پر حرام کردے گا، معاذؓ نے عرض کیا یارسول اللہ! کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ کردوں وہ خوش ہوجائیں آپؐ نے فرمایا ایسا کرے گا توان کو بھروسہ ہوجائے گا اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے مرتے وقت گناہ گارہونے کے ڈر سے یہ لوگوں سے بیان کردیا۔

    (بخاری ، جلد اول کتاب العلم ،حدیث نمبر:128)
  • حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہوجائے کہ اسے اس بات کا یقین ہوکہ اللہ جل شانہ کے علاوہ کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں تو وہ جنت میں جائے گا۔

    (مسلم ، کتاب الایمان)
  • حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرے پاس (خواب میں) ایک آنے والا (فرشتہ) میرے مالک کے پاس سے آیا اس نے بیان کیا یا مجھ کو خبر دی کہ میری امت میں سے کوئی اس حال میں مرجائے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو تو وہ بہشت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا وہ زنا کرے گو وہ چوری کرے آپ ؐ نے فرمایا گو وہ زنا کرے گو وہ چوری کرے۔

    (بخاری ، جلد اول کتاب الجنائز، حدیث نمبر:1164)
  • حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے وہ حجر اسودکے پاس آئے اس کو چوما پھر کہنے لگے میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے نہ بگاڑ سکتا ہے نہ فائدہ دے سکتا ہے اور اگر میں نے آنحضرت ﷺ کو تجھ کو چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی تم کو نہ چومتا۔

    (بخاری ، جلد اول کتاب المناسک ،حدیث نمبر:1503)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایمان کے ستر سے کچھ اوپر شعبے ہیں سب سے افضل (شعبہ) لا الہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) کا اقرار، سب سے کمزور (شعبہ) راستے سے ہڈی (کوئی تکلیف دہ چیز) کا ہٹانا اور حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے۔

    (سنن ابی داو د ،جلد سوئم کتاب السنۃ :4676 )
  • حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے لڑکے، اللہ تعالیٰ (کے احکامات) کی حفاظت کرو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ تعالیٰ کے حقوق کی حفاظت کرو تو اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے پاؤ گے اور جب تم سوال (کا ارادہ) کرو تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرو اور تم نے مدد طلب کرنی ہو تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور یقین کرو کہ (بالفرض) تمام مخلوق اگر تمہیں کچھ فائدہ پہنچانے کے لئے جمع ہوجائے تو تمہیں صرف اسی قدر ہی فائدہ پہنچاسکتی ہے جس قدر اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے اور اگر تمام مخلوق تمہیں کچھ تکلیف دینے کے لئے جمع ہوجائے تو تمہیں صرف اسی قدر تکلیف دے سکتی ہے جس قدر اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں لکھ دی ہے، قلم اٹھادیئے گئے ہیں (احکامات تحریر ہونے سے رک گئے ہیں) اور صحیفوں کی سیاہی خشک ہوچکی ہے۔

    (ترمذی)
  • حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میرے رب کی جانب سے میرے پاس فرشتہ آیا، اس نے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے 2 باتوں میں سے ایک بات چن لینے کا اختیار دیا کہ یا تو میری آدھی امت جنت میں داخل ہوجائے یا (پوری امت کے لئے) شفاعت کا حق مجھے حاصل ہوجائے پس میں نے شفاعت کو پسند کیا اور شفاعت ان لوگوں کے لئے ہے جو اس حال میں فوت ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے تھے۔

    (ترمذی، ابن ماجہ)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا(جب) کوئی بندہ دل کے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہتا ہے تو اس کلمہ کے لئے یقینی طور پر آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں یہاں تک کہ یہ کلمہ سیدھا عرش تک پہنچتا ہے یعنی فوراً قبول ہوتا ہے بشرطیکہ وہ کلمہ کہنے والا کبیرہ گناہوں سے بچتاہو۔

    (ترمذی)
1 2 3 4 5 

47

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق