وضو اور تیمم

  • حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری اُمت کے لوگ قیامت کے دن بلائے جائیں گے ، وضو کے نشانوں سے ان کی پیشانیاں ، ہاتھ پاؤں، سفید ہوں گے، اب جو کوئی تم میں سے سفیدی بڑھانا چاہے وہ بڑھائے۔

    (بخاری، جلد اول ، کتاب الوضوء، حدیث نمبر 136 )
  • حضرت بسرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا۔تم میں سے کوئی آدمی جب اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگائے تو اسے چاہئے کہ وضو کرے۔

    (ابوداوُد، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی)
  • حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ نے فرمایا جب کوئی تم میں سے وضو کرے تو اپنی ناک میں پانی ڈالے پھر ناک صاف کرے، اور جو کوئی (استنجا کیلئے) ڈھیلے لے وہ طاق لے، اور تم میں سے جب کوئی سو کر اٹھے تو اپنے ہاتھ وضو کے پانی میں ڈالنے سے پہلے ان کو دھولے ۔ معلوم نہیں اُ س کا ہاتھ رات کو کہاں کہاں لگا۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الوضوء ، حدیث نمبر 161 )
  • حضرت عبداللہ بن عمر و بن عاص ر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد ﷺ ایک سفر میں ہم سے پیچھے رہ گئے پھر آپؐ سے ہم اِس وقت آملے جب عصر کا وقت تنگ ہوگیا تھا اور ہم (جلدی کے مارے) پاؤں پر مسح کر رہے تھے آپؐ نے بلند آواز سے پکارا دیکھو دوزخ کی آگ سے ایڑیوں کی خرابی ہوگی دوبار فرمایا یا تین بار۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الوضؤ حدیث نمبر 162 )
  • حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا آنحضرت ﷺ کیوں کر وضو کرتے تھے انہوں نے پانی کا ایک طشت منگوایا اور آنحضرت ﷺ کا سا وضو کرکے لوگوں کو بتلایا تو پہلے طشت میں اپنی دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا،اِن کو تین بار دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ اِس طشت میں ڈال کر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ناک سنکی ۔تین بار چلوؤں سے پھر اپنا ہاتھ اس میں ڈال کر اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنوں تک دھویا ۔پھر اپنا ہاتھ ڈال کر (پانی لے کر ) سر پر مسح کیا آگے سے ہاتھوں کولے گئے اور پیچھے سے لائے ایک ہی بار۔ پھر دنوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الوضوء، حدیث نمبر 184 )
  • حضرت عمر و بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ بکری کے گوشت کا شانہ کاٹ کرکھا رہے تھے اتنے میں نماز کے لئے بلائے گئے آپؐ نے چھری ڈال دی پھر نماز پڑھائی اور وضو نہ کیا۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الوضوء، حدیث نمبر206 )
  • حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جس سال خیبر فتح ہوا تو وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ نکلے جب صہباء میں پہنچے جو خیبر کے نشیب میں (مدینہ کی طرف) ایک مقام ہے وہاں آپؐ نے عصر کی نماز پڑھی پھر توشے منگوائے تو فقط ستو آیا (اور کوئی کھانا نہ آیا) آپؐ نے حکم دیا وہ بھگویا گیا پھر آپؐ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا ۔اس کے بعد مغرب کی نماز کے لئے کھڑے ہو ئے۔ آپؐ نے کلی کی اور ہم نے کلی کی پھر نماز پڑھائی اور وضو نہ کیا۔

    (بخاری ،جلد اوّل، کتاب الوضوء، حدیث نمبر 207 )
  • حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دودھ پیا ، پھر کلی کی اور فرمایا دودھ میں چکنائی ہوتی ہے۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الوضوء حدیث نمبر 209 )
  • حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضر ت ﷺ سے میں نے پوچھا کیا جنابت کی حالت میں ہم میں سے کوئی سوسکتا ہے ؟آپؐ نے فرمایا ہاں جب وضو کرے تو جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الغسل، حدیث نمبر 281 )
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ آنحضرت ﷺ جنابت کی حالت میں آرام فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں اور آپؐ وضو کرلیتے۔

    (بخاری، جلد اول، کتاب الغسل ، حدیث نمبر 280 )
1 2 3 4 5 

41

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق