جنازوں کے احکام

  • حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ر وایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو کوئی ایمان رکھ کر اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور نماز اور دفن سے فراغت ہونے تک اس کے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر لوٹے گا اور ہر قیراط اتنا بڑا ہوگا کہ جیسے احد کا پہاڑ اور جو شخص جنازے پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ آئے تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا۔

    (بخاری، جلد اوّل، کتاب ایمان، حدیث نمبر 35 )
  • حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں سلام کا جواب دینا ، بیمار ہو تو اس کو جا کر پوچھنا، اس کے جنازے کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا ، چھینک کا جواب دینا۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الجنائز، حدیث نمبر 1167 )
  • حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نجاشی حبش کے بادشاہ کے مرنے کی اس روز خبر کردی جس روز وہ مرا اور عید گاہ کو تشریف لے گئے اور لوگوں کی صف بندی کروائی چار تکبیریں کہیں۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الجنائز، حدیث نمبر 1172 )
  • حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سے عورتوں نے عرض کیا کہ ایک دن ہم کو وعظ سنانے کا مقرر فرمایا دیجئے۔ (آپؐ نے مقرر کردیا) ان کو وعظ سنایا تو فرمایا جس عورت کے تین بچے مر جائیں وہ (قیامت کے دن) دوزخ سے اس کے آگے آڑہوں گے ایک عورت (ام سلیم) نے عرض کیا اگر دو مر جائیں تو ۔ آپؐ نے فرمایا دو بھی۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الجنائز، حدیث نمبر 1176 )
  • حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں وہ صرف قسم ا تا ر نے کے لئے دوزخ میں جائے گا۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الجنائز، حدیث نمبر 1177 )
  • حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب تم میں کوئی جنازہ دیکھے تو اگر اس کے ساتھ چلنے والا نہ ہو تو کھڑا ہی ہو جائے یہاں تک کہ وہ جنازے کو پیچھے چھوڑے یا جنازہ آگے بڑھ جائے یا زمین پر رکھا جائے آگے بڑھ جانے سے پہلے۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الجنائز، حدیث نمبر 1230 )
  • حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا ایک بار ایسا ہوا کہ ایک یہودی کا جنازہ ہمارے سامنے سے نکلا۔ آنحضر ت ﷺ ا س کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے ہم بھی کھڑے ہوگئے اور ہم نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ یہودی کا جنازہ ہے آپؐ نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الجنائز، حدیث نمبر 1233 )
  • حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب میت (کھاٹ پر )رکھی جاتی ہے اور مرد اس کو اپنی گردنوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر جنازہ نیک ہو تو وہ کہتا ہے مجھ کو آگے لے چلو، اور اگر نیک نہیں ہوتا تو کہتا ہے اے خرابی مجھ کو کہاں لے جاتے ہو۔ اس کی آواز ساری مخلوق سنتی ہے (مگر آدمی )نہیں سنتا۔ آدمی سنے تو بیہوش ہو جائے۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الجنائز، حدیث نمبر 1235 )
  • حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنازے لے کر جلد چلا کرو اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو بھلائی کی طرف نزدیک کرتے ہو اگر نیک نہیں ہے تو برے کو اپنی گردنوں پر سے اتارتے رہو۔

    (بخاری ، جلد اوّل،کتاب الجنائز، حدیث نمبر 1239 )
  • حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب آدمی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی پیٹھ موڑ کر چل دیتے ہیں وہ ان کے جوتوں کی آواز تک سنتا ہے۔ اس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اس کو بٹھلاتے ہیں پوچھتے ہیں تُو ان صاحب (محمد ﷺ ) کے بارے میں کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ وہ کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے دوزخ میں جو تیری جگہ تھی اس کو دیکھ لے اللہ نے ا س کے بدل تجھے بہشت میں ٹھکانا دیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو وہ اپنے دونوں ٹھکانے دیکھتا ہے ۔ اور کافر یا منافق فرشتوں کے جواب میں کہتا ہے میں نہیں جانتا میں تو وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ پھر اس سے کہا جائے گا نہ تونے خود غور کیا نہ عالموں کی پیروی کی ۔پھر لوہے کی گرز سے اس کے کانوں کے درمیان ایک مار لگائی جاتی ہے۔ وہ ایک چیخ مارتا ہے اس کے پاس والی مخلوق آدمی اور جن کے سوا سن لیتی ہے۔

    (بخاری، جلد اوّل،کتاب الجنائز، حدیث نمبر 1257 )
1 2 3 4 5 

42

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق