تقدیر

  • حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم بقیع میں ایک جنازے کے ساتھ تھے اتنے میں آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور بیٹھ گئے ہم آپ ﷺ کے گرد بیٹھ گئے۔ آپؐ کے پاس ایک چھڑی تھی۔ آپؐ نے سر جھکالیا اور چھڑی سے زمین کریدنے لگے پھر فرمایا۔ تم میں سے کوئی ایسا نہیں یا کوئی جان ایسی نہیں جس کا ٹھکانا بہشت اور دوزخ دونوں جگہ نہ لکھا گیا ہو اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہوگی یا بدبخت۔ ایک شخص (حضرت علی رضی اللہ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ یا سراقہ رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا یارسول اللہ! پھر ہم اپنی قسمت کے لکھے پر بھروسہ کیوں نہ کرلیں اور عمل کرنا (محنت کرنا) چھوڑ دیں کیونکہ جس کا نام نیک بختوں میں لکھا ہے وہ ضرور بدی کی طرف جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ بات یہ ہے کہ جن کا نام نیک بختوں میں ہے ان کو نیک کام کرنے کی توفیق ملے گی۔ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی ۔ فاما من اعطی واتقی اخیر تک۔ 

    (بخاری، جلد اول کتاب الجنائز حدیث نمبر1279)
  • حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔تم میں سے ہر شخص اپنی ماں کے پیٹ میں 40 دن نطفہ کی صورت میں، پھر 40 دن جمے ہوئے خون کی صورت میں پھر اتنے ہی دن گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں رہتا ہے پھر فرشتہ کو بھیجا جاتا ہے وہ اس میں روح پھونک دیتا ہے۔ پھر اس کو 4 کلمات لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے اس کا رزق، اس کی زندگی، اس کا عمل اور اس کی بدبختی یا خوش نصیبی ہونا لکھ دیا جاتا ہے پس اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ایک شخص جنتیوں کے عمل کرتا رہتا ہے حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے پھر وہ جہنمیوں جیسے عمل کرتا ہے اور جہنم میں داخل ہوجاتا ہے اور ایک شخص جہنمیوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے حتی کہ اس شخص اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے وہ جنتیوں جیسے عمل کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔

    (مسلم ، کتاب القدر)
  • حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کررکھا ہے جو عرض کرتا ہے یہ نطفہ ہے۔ اے رب اب یہ جما ہوا خون ہے اے رب یہ خون کا لو تھڑا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اس کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو فرشتہ عرض کرتا ہے۔ اے رب یہ نر ہے یا مادہ، شقی ہے یا سعید؟ اس کا رزق کتنا ہے اور اس کی عمر کیا ہے؟ پس اس طرح اس کی ماں کے پیٹ میں ہی سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے۔

    (بخاری)(مسلم ، کتاب القدر)
  • حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اللہ تعالیٰ نے زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کرنے سے 50ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیر کو لکھا اور اس وقت اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا۔

    (مسلم ، کتاب القدر)
  • حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تمام بنی آدم کے دل، رحمن (اللہ) کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں جس کے لئے چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے اس لئے رسول کریم ﷺ یہ دعا بار بار پڑھتے تھے۔  اللہم مصرف القلوب صرف قلوبنا علی طاعتک۔  (ترجمہ: اے اللہ، دلوں کے پھیرنے والے، ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر پھیر دیجئے)

    (مسلم ، کتاب القدر)
  • حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ام حبیبہؓ نے دعا کی اے اللہ میرے شوہر رسول کریمؐ اور میرے والد ابوسفیان اور میرے بھائی کی درازی عمر سے مجھے فائدہ پہنچے۔ رسول کریمؐ نے ان سے فرمایا۔تم نے اللہ تعالیٰ سے ان مدتوں کا سوال کیا ہیں جو مقرر ہیں اور ان قدموں کا جو معین ہیں اور اس رزق کا جو تقسیم ہوچکا ہے۔ ان میں سے کوئی چیز وقت پورا ہونے سے پہلے مقدم نہیں ہوگی اور نہ وقت پورا ہونے کے بعد واضح ہوگی۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرتی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے اور قبر کے عذاب سے اپنی پناہ میں رکھے تو یہ تمہارے لئے بہتر ہوتا۔ ایک شخص نے پوچھا اے اللہ کے رسولؐ کیا (موجودہ) بندر اور خنزیر انہی لوگوں کی نسل سے ہیں جن کی شکلیں بگاڑ دی گئی تھیں؟ نبی کریمؐ نے فرمایا : اﷲ تعالی نے کسی قوم کو عذاب دے کر یا ہلاک کر کے اس کی نسل نہیں چلائی، بے شک بندر اور خنزیراس سے پہلے بھی تھے

    (مسلم ،کتاب القدر)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک طاقت ور مومن کمزور مومن سے زیادہ اچھا اور زیادہ محبوب ہے اور ہر ایک میں خیر ہے جو چیز تم کو نفع دے اس میں حرص کرو۔ اللہ کی مدد چاہو اور تھک کر نہ بیٹھ جاؤ۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو یہ نہ کہو کاش میں ایسا کرلیتا۔ البتہ یہ کہو یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے اس نے جو چاہا کردیا، یہ لفظ کاش شیطان کہلواتا ہے۔

    (مسلم،کتاب القدر)
  • نافع بیان کرتے ہیں کہ ایک شامی ابن عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا وہ ان سے خط و کتابت کرتا تھا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے خط لکھا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم نے تقدیر کے متعلق کوئی بات کی ہے آئندہ مجھے خط نہیں لکھنا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ میری امت میں بعض ایسے لوگ ہونگے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔

    (سنن ابی داوُ د، جلد سوئم کتاب السنۃ 4613)
  • حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ہر امت کے مجوس ہیں اور اس امت کے مجوس وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ تقدیر کچھ بھی نہیں۔ ان میں سے کوئی مرجائے تو اس کے جنازہ میں شریک نہ ہو اور ان میں سے کوئی بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت نہ کرو۔ وہ دجال کے ساتھی ہیں اور یہ اللہ پر حق ہے کہ انہیں دجال کے ساتھ ملادے۔

    (سنن ابی داوُ د، جلد سوئم کتاب السنۃ 4692)
  • حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ایک مشت خاک سے پیدا کیا جسے تمام زمین سے لیا تھا بس بنو آدم زمین (کی خاصیت) کے مطابق پیدا ہوئے۔ ان میں سے کوئی سفید اور کالا پیدا ہوا اور کوئی ان (سرخ و سفید اور کالے) کے درمیان اور ان میں سے کوئی نرم مزاج ہے تو کوئی سخت مزاج اور اسی طرح خبیث و طیب۔

    (ترمذی ،ابوداوُد، باب الایمان بالقدر) (سنن ابی داوُ د، جلد اول کتاب السنۃ 4693)
1 2 3 

25

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق