نماز عیدین

  • حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کو میں نے عید کے دن خطبہ پڑھتے سنا ۔آپؐ نے فرمایا پہلا کام جو ہم سب اس دن کرتے ہیں وہ نماز ہے پھر لوٹ کر (بقر عید میں) قربانی کرتے ہیں جو کوئی یہ کرے وہ ہمارے طریق پر چلا۔

    (بخاری ،جلد اول کتاب العیدین، حدیث نمبر903)
  • حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ عیدالفطر کے دن جب تک کچھ کھجوریں نہ کھالیتے نماز کو نہ جاتے اور آپ نے کہا کہ آپؐ طاق کھجوریں کھاتے۔

    (بخاری ،جلد اول کتاب العیدین ،حدیث نمبر905)
  • حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ آنحضرت ﷺ عیدالاضحٰی اور عیدالفطر میں پہلے نماز پڑھتے پھر نماز کے بعد خطبہ سناتے۔

    (بخاری ،جلد اول کتاب العیدین ،حدیث نمبر909)
  • حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا (آنحضرت ﷺ کی طرف سے) ہم کو عید کے دن نکلنے کا حکم ہوتا یہاں تک کہ کنواری عورت بھی پردے میں سے نکلتی اور حائضہ بھی نکلتیں۔ وہ لوگوں کے پیچھے رہتیں مردوں کے ساتھ تکبیر کہتیں اور ان کی دعا میں شریک ہوتیں اس دن کی برکت اور پاکیزگی حاصل کرنے کی امید رکھتیں۔

    (بخاری ،جلد اول کتاب العیدین ،حدیث نمبر 920)
  • حضرت جابر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ جب عید کا دن ہوتا تو ایک رستے سے عید گاہ کو جاتے اور دوسرے رستے سے آتے۔

    (بخاری ،جلد اول کتاب العیدین ،حدیث نمبر934)
  • حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ عید کے دن نماز کے لئے حاضر ہوا تو آپؐ نے اذان اور اقامت کے بغیر نماز پڑھائی۔ خطبہ سے پہلے بلال رضی اللہ عنہ سے ٹیک لگاکر کھڑے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا اور اس کی اطاعت کی ترغیب دی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی۔ پھر عورتوں کے پاس جاکر ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا صدقہ کرو کیونکہ تم میں سے اکثر جہنم کا ایندھن ہیں۔ عورتوں کے درمیان سے ایک عورت نے کھڑے ہوکر عرض کیا۔ کیوں؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیونکہ تم شکوہ زیادہ کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری بھی۔ عورتیں اپنے زیوروں کو صدقہ کرنا شروع ہوگئیں۔ بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔

    (مسلم ،کتاب صلوۃ العیدین )
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم ﷺ نے عیدالاضحٰی اور عیدالفطر کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

    (مسلم ،کتاب الصیام )
  • حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ان (اہل مدینہ) کے لئے دو دن کھیل کود کے لئے مخصوص تھے آپؐ نے دریافت کیا یہ دو دن کیسے ہیں؟ (ان دنوں کی اہمیت کیا ہے) ۔انہوں نے جواب دیا زمانہ جاہلیت میں ہم ان دنوں میں کھیلا کرتے تھے پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دنوں کے بدلہ میں دو بہتر دن عطا کردیئے ہیں یوم الاضحٰی اور یوم الفطر۔

    (سنن ابی داوُد ،جلد اول کتاب الصلوۃ ،حدیث نمبر1134 )
  • حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز عید ایک یا دو بار نہیں (بلکہ متعدد بار) اذان اور اقامت کے بغیر پڑھی ہے۔

    (سنن ابی داوُد ،جلد اول کتاب الصلوۃ ،حدیث نمبر1148)
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدالفطر اور عیدالاضحٰی کی پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے۔

    (سنن ابی داوُد،جلد اول کتاب الصلوۃ ،حدیث نمبر1149 )
1 2 

18

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق