گفتگو کے آداب

  • نبی کریم ﷺ کے ایک خادم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺجب کوئی بات کرتے تھے تو اسے تین بار دھراتے ۔

    (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب العلم حدیث نمبر :3653)
  • حضرت عروہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں ۔ پس وہ (تیز تیز گفتگو سے )کہنے لگے اے حجرے والی میری بات سنیں ، انہوں نے ایسے کہا تو جب وہ نماز سے فارغ ہوئیں تو فرمایا کیا تمہیں (اے عروہ )اس سے اور تیز تیز گفتگو سے تعجب نہیں ہوا ؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس اندازمیں گفتگو فرماتے تھے اگر کوئی شمار کرنے والاچاہتا تو اسے شمار کر سکتا تھا (یعنی آرام آرام سے بالکل واضح گفتگو فرماتے تھے )۔

    (سنن ابی داوُد ،جلد سوئم کتاب العلم حدیث نمبر :3654)
  • حضرت ابی امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا :بری باتوں سے خاموش رہنا ایمان کی شاخ ہے اور بے ہودہ فضول باتیں کرنا نفاق کی علا مت ہے ۔

    (ترمذی )
  • حضرت ابی ثعلبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا :بلاشبہ قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ مجھے محبوب اور سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ لوگ ہو نگے جو تم میں سے سب سے اچھے اخلاق کے مالک ہونگے اور میرے نزدیک سب سے زیادہ نفرت کے قابل اور مجھ سے بہت دور وہ لوگ ہونگے جن کے اخلاق برے ، جو فضول باتیں زیادہ بنانے والے ،گفتگو میں احتیاط نہ کرنے والے اور جو تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر کر باتیں کرنے والے ہونگے ۔

    (بیہقی)
  • حضرت ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا :جب انسان صبح کرتا ہے تو اس کے تمام اعضا زبان کی منت سماجت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے بارے میں تمہیں اللہ تعالیٰ(کے عذاب )سے ڈرنا چاہیے ،بلا شبہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ، اگر تم درست رہو گی تو ہم بھی درست ہیں گے اور اگر تم میں ٹیڑھا پن آگیا تو ہم بھی سیدھے راستہ سے ہٹ جائیں گے۔

    (ترمذی )
  • حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا :فضول باتوں کو چھوڑ دینا ایک اچھے مسلمان کی علامت ہے ۔

    (احمد ،مالک)
  • حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے سوال کیا کہ آپ ﷺسب سے زیادہ میرے لئے کس چیزسے خطرہ محسوس کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک پکڑکر فرمایا: زبان کے ( نا جا ئز ) استعمال سے ۔

    (ترمذی )
  • حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:۔تم ایک دوسرے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کے ساتھ بد دعانہ کرو اور نہ یہ کہو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو اور نہ یہ کہو کہ تم جہنمی ہو۔

    (تر مذی، ابو داوُد)
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے صفیہ رضی اللہ عنہا (آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ) کے بارے میں رسول کریم ﷺ سے کہا کہ وہ ایسی ایسی ہے ( یعنی وہ چھو ٹے قد والی ہے )۔آپ ﷺ نے نے فرمایا : اے عائشہ ،تم ایسا کلمہ زبان پر لائی ہو کہ اگر اسے سمندر کے برابر پانی میں ملایا جائے تو اس کی کڑواہٹ اتنے زیادہ پانی پر غالب آجائے۔

    (تر مذی،ابو داوُد )
  • حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:کیا تم جانتے ہوکہ لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں کون سی چیز لے جائیگی ؟ وہ اللہ تعالیٰ ( کے عذاب)کا ڈر اور بہترین اخلاق ہے ،کیا تم جانتے ہو کہ لو گوں کو کثرت کے ساتھ کون سی چیز جہنم میں داخل کریگی؟ وہ دوکھوکھلی چیزیں ،زبان اور شرمگاہ ہیں ۔

    (ترمذی ،ابن ماجہ)
1 2 

16

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق