رشتہ داروں کے حقوق/ صلہ رحمی

  • حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرنے لگا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتایئے جو مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کردے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ، نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ جب وہ واپسی کیلئے چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ شخص ان باتوں پر عمل پیرا ہوا جن کا اسے حکم دیا گیا ہے تو ضرور جنت میں جائے گا۔

    (مسلم، کتاب الایمان)
  • حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کسی آدمی کے گناہگار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس کے خرچ کا وہ ذمہ دار ہے اس کا خرچ روک لے۔

    (مسلم ، کتاب زکوۃ )
  • حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا پہلے اپنی ذات پر خرچ کرو ،پھر اگر کچھ بچے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو، پھر اگر اپنے اہل و عیال سے کچھ بچے تو اپنے رشتہ داروں پر ،اور اگر رشتہ داروں سے بھی کچھ بچ جائے تو ادھر ادھر اپنے سامنے، دائیں بائیں والوں پر خرچ کرو۔

    (مسلم، کتاب الزکوۃ )
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے بعض رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں وہ مجھ سے توڑتے ہیں ،میں ان کے ساتھ نیکی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں ،میں ان کے ساتھ بردباری کے ساتھ پیش آتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جہالت آمیز سلوک کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم درحقیقت ایسا ہی کرو جیسا کہ تم نے کیا ہے تو تم ان کو جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اس طرح کرتے رہو گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے مقابلہ میں تمہارا ایک مدد گار رہے گا۔

    (مسلم، کتاب البر والصلۃ)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا اور جب ان سے فارغ ہوگیا تو رحم (رشتہ داری) نے کھڑے ہوکر کہا یہ قطع رحمی سے پناہ مانگنے والے کا مقام ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اے رحم) کیا تم اس سے راضی نہیں ہو کہ میں اس سے ملوں گا جو تم سے ملیں گے اور ان سے تعلق نہ رکھوں گا جو تم سے تعلق نہ رکھے گا۔ رحم نے کہا کہ جی ہاں ضرور راضی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یہ تمہارا حق ہے پھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو یہ آیات پڑھو (ترجمہ) قریب ہے کہ اگر تمہیں حکومت دی جائے تو تم زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنی رشتہ داریوں کو توڑ ڈالو، یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے پھر ان کو بہرا اور اندھا کردیا تو کیا وہ قرآن مجید میں غوروفکر نہیں کرتے کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ (سورۃ محمد۴۷ آیت۲۴۔۲۲)

    (مسلم، کتاب البروالصلۃ)
  • حضرت انس بن ما لک رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے کہ رسو ل کر یم ﷺ نے فر مایا . جو شخص یہ چا ہتا ہو کہ اس کے رزق میں فرا خی کی جا ئے یا اس کی عمر دراز کی جا ئے تو وہ صلہ رحمی ( رشتہ دا روں سے اچھا سلو ک) کر ے ۔

    (مسلم،کتا ب البر وا لصلۃ) (بخاری ) ( سنن ابی داوُد، جلد اول کتاب الزکوٰۃ :1691
  • نبی کریم ﷺ کی زو جہ محتر مہ میمو نہ رضی اللہ عنہا بیا ن کر تی ہیں کہ میری ایک کنیز (با ندی ، لو نڈی ) تھی پس میں اسے آزاد کر دیا ۔نبی کریم ﷺ میرے پاس تشر یف لا ئے تو میں نے انہیں اس کے متعلق بتا یا ۔ پس آپ ﷺ نے فر مایا اللہ تعا لیٰ تمہیں اجر و ثواب عطا کرے اگر تم اسے اپنے ما موں کو دے دیتیں تو تمہا رے لیے اجر عظیم ہو تا ( تمہیں اجر عظیم ملتا ) ۔

    (سنن ابی داوُد، جلد اول باب الزکوٰۃ:1690)
  • حضرت ابو ہر یر ہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے صدقہ کا حکم فر مایا تو ایک شخص نے کہا اللہ کے رسول ﷺ ! میرے پاس ایک دینا ر ہے آپ ﷺ نے فر مایا اپنی ذات پر خرچ کر ۔اس نے کہا میرے پا س ایک اور دینا ر ہے، آپ ﷺ نے فر مایا اپنے بیٹے پر خرچ کر۔ اس نے کہا میرے پاس ایک اور دینار ہے، آپ ﷺ نے فر مایا اپنی بیوی پر خرچ کر۔ اس نے کہا : میرے پاس ایک اور بھی ہے آپ ﷺ نے فر مایا اسے اپنے خادم پر خر چ کر۔ اس نے کہا : میرے پاس ایک اور بھی ہے، آپ ﷺ نے فر مایا تو زیا دہ جا نتا ہے ( کہ کہاں خرچ کر نا ہے )۔

    ( سنن ابی داو ُد جلد اول کتاب الزکوٰۃ :1693)
  • حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو فر ماتے ہو ئے سنا کہ اللہ تعا لیٰ فر ماتے ہیں میں رحمن ہوں اور وہ ( صلہ رحمی ) بھی رحم ہے اور میں نے اس کا نام اپنے ( نام رحمن ) سے رکھا ہے جو اسے ملا ئے گا ( یعنی صلہ رحمی کر ے گا ) میں اسے ( اپنی رحمتوں سے) ہمکنار کروں گا اور جو اسے قطع کرے گا ( صلہ رحمی نہیں کرے گا) میں اسے اپنی رحمت سے منقطع کروں گا۔

    ( سنن ابی داوُد، جلد اول کتاب الزکوٰۃ :1694)
  • حضرت معا ویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا ۔اے اللہ کے رسو ل ﷺ میں کس کے ساتھ احسا ن کرو ؟ آپ ﷺ نے فر مایا ۔ اپنی وا لدہ کے ساتھ ۔ میں نے عرض کیا پھر کس سے ؟آپ ﷺ نے فر مایا ۔ اپنی والدہ سے ۔ میں نے کہا پھر کس سے ؟ آپ ﷺ نے فر مایا اپنی والدہ سے ۔میں نے عرض کیا پھر کس سے ؟ آپ ﷺ نے فر مایا ۔ اپنے والد سے ۔پھر مر تبہ کی تر تیب سے اپنے قریبی رشتہ داروں سے ۔

    ( ترمذی ،ابو داوُد)
1 2 

14

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق