مسلمان کے حقوق

  • حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کون سا مسلمان افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان بچے رہیں۔

    (بخاری، جلد اول کتاب ایمان ،حدیث نمبر1)
  • حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا اسلام کی کون سی خصلت بہتر ہے؟ آپؐ نے فرمایا کھانا کھلانا اور (ہر ایک مسلمان) کو سلام کرنا (چاہے وہ) اس کو پہچانتا ہو یا نہ پہچانتا ہو۔

    (بخاری ،جلد اول کتاب ایمان ،حدیث نمبر11)
  • حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کوئی تم میں سے اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ جو اپنے لئے چاہتا ہے وہی اپنے بھائی (مسلمان) کے لئے چاہے۔

    (بخاری ،جلد اول کتاب ایمان ،حدیث نمبر 12)
  • حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہوجاتا ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے۔

    (مسلم، کتاب الایمان)(بخاری ، جلد اول کتاب الایمان ،حدیث نمبر 36 )
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کا آئینہ ہے پھر اگر اس میں عیب دیکھے تو دور کردے( یعنی اس کے عیب کی اس کو اطلاع کردے جیسے آئینہ اطلاع کردیتا ہے)۔

    (جامع ترمذی ،جلد اول باب البر والصلۃ1929)
  • حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہم کو سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا آپؐ نے حکم دیا جنازوں کے ساتھ جانے کا، بیمار کو پوچھنے کا، دعوت قبول کرنے کا، مظلوم کی مددکرنے کا، قسم پورا کرنے کا، سلام کا جواب دینے کا، چھینکنے والے کے لئے دعا کرنے کا اور آپؐ نے منع فرمایا چاندی کے برتن، سونے کی انگوٹھی، خالص ریشمی کپڑے اور دیبا اور قسی اور استبراق سے۔

    (بخاری ،جلد اول کتاب الجنائز، حدیث نمبر1166)
  • حضرت ابوالاسود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں مدینہ میں آیا ان دونوں میں وہاں بیماری پھیلی تھی۔ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک جنازہ سامنے سے گزرا لوگوں نے اس کی تعریف کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا واجب ہوگئی پھر ایک اور جنازہ گزرا لوگوں نے اس کی برائی کی آپؓ نے کہا واجب ہوگئی۔ پھر ایک تیسرا جنازہ گزرا لوگوں نے اس کی برائی کی آپؓ نے پھر کہا واجب ہوگئی۔ ابوالاسود دیلیؓ نے کہا اے امیرالمومنین کیا چیز واجب ہوگئی ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے وہی کہا جیسے آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا جس مسلمان کی اچھائی پر چار مسلمان گواہی دیں۔ اللہ اس کو جنت میں لے جائے گا ۔ہم نے عرض کی اگر تین مسلمان گواہی دیں آپؓ نے فرمایا تین بھی۔ ہم نے عرض کی اگر دو مسلمان گواہی دیں۔ آپؓ نے فرمایا دو بھی۔ پھر ہم نے یہ نہیں پوچھا کہ اگر ایک مسلمان گواہی دے۔

    (بخاری ، جلد اول کتاب الجنائز ،حدیث نمبر1284 )
  • حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے منیٰ میں فرمایا تم جانتے ہو یہ کونسا دن ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسولؐ خوب جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا یہ حرمت والا دن ہے۔ جانتے ہو یہ کونسا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسولؐ خوب جانتے ہیں۔ فرمایا یہ حرمت والا شہر ہے۔ جانتے ہو یہ کونسا مہینہ ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسولؐ خوب جانتے ہیں فرمایا یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ پھر فرمایا دیکھو اللہ نے تم پر ایک دوسرے کا مال، خون، آبروئیں ایسی ہی حرام کردی ہیں جیسے اس دن کی، اس مہینے کی، اس شہر کی حرمت اور فرمایا دیکھو یہ حج اکبر کا دن ہے۔ پھر آپؐ نے یہ کہنا شروع کیا یا اللہ! گواہ رہنا اور لوگوں کو رخصت کیا۔ آپؐ سمجھ گئے کہ وفات کا زمانہ آن پہنچا۔ جب سے لوگ اس حج کو حجۃ الوداع کہنے لگے۔

    (بخاری ، جلد اول کتاب المناسک، حدیث نمبر1635)
  • حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ خود اس پر ظلم کرے نہ ظالم کے ہاتھ میں اس کو چھوڑ کر بیٹھ جائے۔ جو شخص اپنے بھائی مسلمان کا کام نکالے تو اللہ اس کا کام نکالے گا جو شخص مسلمان پر سے کوئی مصیبت ٹالے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کی ایک مصیبت اس پر سے ٹال دے گا اور جو شخص مسلمان کا عیب چھپالے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔

    (بخاری،جلد اول کتاب المظالم ،حدیث نمبر2278)
  • ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کر وہ ظالم ہو یا مظلوم، لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ! وہ مظلوم ہو تو اس کی مدد کریں گے لیکن ظالم ہو تو کیسے مددکریں؟ آپؐ نے فرمایا اس کو ظلم سے روکو!

    (بخاری ،جلد اول کتاب المظالم، حدیث نمبر2280)
1 2 3 4 5 

41

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق