اچھا ئیوں کا حکم دینا، برائیوں سے منع کر نا

  • حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری طرف سے پہنچاؤ اگرچہ ایک ہی آیت ہو۔

    (بخاری )
  • حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر کوئی آدمی ایسی قوم سے ہو جس میں گناہ ہوتے ہوں اور وہ اسے منع کرنے کی قدرت بھی رکھتے ہوں پھر بھی اسے نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ ان کی موت سے پہلے انہیں عذاب میں مبتلا کردے گا۔

    (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الملاحم :4339)
  • حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص تم میں سے برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدلنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے اپنے ہاتھ سے بدلے۔ پس اگر وہ استطاعت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے۔ اگر زبان سے استطاعت نہ رکھتا ہو تو دل سے (اسے برا جانے) یہ کمزور ترین ایمان ہے۔

    (سنن ابی داوُد ،جلد سوئم کتاب الملاحم :4341)
  • ابو امیہ شعبانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو ثعلبہ الخشنی سے دریافت کیا تو میں نے کہا اے ابو ثعلبہ تمہارا اس آیت (علیکم انفسکم) تم اپنے ذمہ دار ہو کے بارے کیا خیال ہے انہوں (ابو ثعلبہ) نے کہا سن لو اللہ کی قسم تم نے ایک جاننے والے سے دریافت کیا ۔میں نے اس بارے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تھا تو آپؐ نے فرمایا نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو حتی کہ جب تم دیکھو کہ بخیلی کی اطاعت کی جائے خواہشات کی اتباع کی جائے، دنیا کو ترجیح دی جائے اور ہر صاحب رائے اپنی رائے کو پسند کرنے لگے تو پھر تم اپنے ہی ذمہ دار ہو اور عوام کو چھوڑ دو۔ تمہارے بعد ایام صبر ہونگے اس دور میں صبر کرنا ایسے ہی ہوگا جیسے انگارہ پکڑنا۔ان ( لوگوں کی موجودگی) میں عامل کے لئے پچاس آدمیوں کے عمل کے مطابق اجر ہوگا جو اس کے عمل کی طرح کرتے ہونگے انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ان میں سے (اُس دور کے) پچاس آدمیوں کا اجر۔ آپؐ نے فرمایا تم میں سے پچاس آدمیوں کا اجر (یعنی پچاس صحابہ کرام کے عمل کے برابر اجر ہوگا)۔

    (سنن ابی داوٗد ،جلد سوئم کتاب الملاحم :4341)
  • حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری اس وقت کیا کیفیت ہوگی یا فرمایا قریب ہے کہ ایک ایسا دور آئے کہ اس میں لوگ الگ الگ کردیئے جائیں گے (اچھے برے الگ الگ ہوجائیں گے) رزیل قسم کے لوگ باقی رہ جائیں گے ان کے عہدو پیمان اور امانتیں ختم ہوجائیں گی اور آپس میں اختلاف ہوجائے گا اور وہ اس طرح ہوجائیں گے آپؐ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈالا۔ پس صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول اس حالت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا جو (احکام) تمہیں معلوم ہیں انہیں اختیار کرو اور جو تمہیں معلوم نہیں انہیں چھوڑ دو اور تمہارے جو خاص لوگ ہیں ان کے امر کی فکر کرو(اس کی طرف متوجہ ہو) اور تمہارے جو عام لوگ ہیں ان کے امر چھوڑ دو۔

    (سنن ابی داوُد ،جلد سوئم کتاب الملاحم :4342)
  • حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: افضل جہاد جابر (ظالم) بادشاہ کے سامنے کلمہ عدل کہنا ہے یا ظالم امیر کے سامنے (کلمہ حق کہنا ہے)

    (سنن ابی داوُد ،جلد سوئم کتاب الملاحم :4344)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی کو ہدایت کی دعوت دی تو اس داعی کو بھی اس قدر ثواب ملے گا جس قدر اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا اور ان میں سے کسی کے ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی اور جس شخص نے کسی کو گمراہی کی دعوت دی تو اس پر بھی اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا اس کی اتباع کرنے والوں کو ہوگا اور یہ ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔

    (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب السنۃ :4609)
  • حضرت ابی ذر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح صدقہ ہوتا ہے۔ اپنے ملنے والے پر سلام کرنا صدقہ ہے۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے ۔راستہ سے تکلیف دہ چیز دور کرنا صدقہ ہے ۔اپنی بیوی سے مباشرت کرنا صدقہ ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی: اے اللہ کے رسولؐ! اگر کوئی اپنی شہوت پوری کرے پھر بھی صدقہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا اگر کوئی زنا کرے تو کیا وہ گناہگار نہیں ہوگا آپؐ نے فرمایا ہر ایک جوڑ سے دو رکعت نماز چاشت کافی ہوجاتی ہے۔

    (سنن ابی داوُد ،جلد سوئم کتاب الادب :5243)
  • حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تم اچھے کاموں کا حکم دیتے رہنا اور برے کاموں سے روکتے رہنا ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر عذاب مسلط کردے پھر تم اس سے دعا کرو لیکن تمہاری دعا قبول نہ ہوگی۔

    (ترمذی)
  • ایک صحابی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: لوگ اس وقت تک ہر گز تباہ و برباد نہ ہونگے جب تک وہ اپنے گناہوں کو درست ثابت کرنے کے لئے جھوٹے عذر پیش نہ کرنے لگیں گے۔

    (ابوداوُد۔ عن ابی البختریؒ )
1 2 3 

24

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق