آسانی ,معاملہ میں نرمی

  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک گنوار کھڑا ہوکر مسجد میں پیشاب کرنے لگا لوگوں نے اس کو للکارا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا چھوڑو جانے دو اور جہاں اس نے پیشاب کیا ہے وہاں ایک بھرا ہوا پانی کا ڈول بہادو۔ کیونکہ تم لوگوں پر آسانی کرنے کو بھیجے گئے اور سختی کرنے کو نہیں بھیجے گئے۔

    (بخاری ،جلد اول کتاب الوضو حدیث نمبر:218)
  • حضرت جابر بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ اس شخص پر رحم کرے جو بیچتے اور خریدتے اور تقاضا کرتے وقت نرمی اور ملائمت کرتا رہے۔

    (بخاری، جلد اول کتاب البیوع حدیث نمبر :1947)
  • حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگلے زمانے میں تم سے پہلے ایک آدمی مرگیا۔ فرشتوں نے اس کی روح سے ملاقات کی اورپوچھا تو نے کوئی نیک کام کیا۔ وہ بولا (کچھ نہیں مگر) میں نے اپنے غلاموں اور نوکروں کو یہ حکم دے رکھا تھا کہ (کسی پر سخت تقاضا نہ کریں) مال دار کو مہلت دیں اور محتاج کو معاف کردیں ۔یہ سن کر فرشتوں نے بھی اس کو چھوڑ دیا۔

    (بخاری،جلد اول کتاب البیوع حدیث نمبر :1948)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک سوداگر تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا پھر جب وہ دیکھتا کہ کوئی محتاج ہے تو اپنے آدمیوں سے کہتا اس کو معاف کردو۔ شاید اللہ ہم کو معاف کرے۔ آخر (جب وہ مرگیا تو) اللہ نے اس کو بخش دیا۔

    (بخاری ، جلد اول کتاب البیوع حدیث نمبر :1949)
  • حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اللہ تعالیٰ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو مال دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تو نے دنیا میں کیا عمل کیا ۔لوگ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہیں سکتے کہا اے میرے رب آپ نے مجھے مال عطا فرمایا تھا اور میری عادت درگزرکرنا تھی میں مال دار پر آسانی کرتا اور تنگ دست کر قرض ادا کرنے کی مہلت دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تجھ سے زیادہ درگزر کرنے کا حقدار ہوں (اے میرے فرشتو) میرے اس بندے سے درگزر کرو۔

    (مسلم ، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ )
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے ملاقات کی اجازت طلب کی آپ ﷺ نے فرمایا اسے اجازت دے دویہ شخص اپنے قبیلہ کا برا آدمی ہے ۔جب وہ شخص آیا تو آپ ﷺ نے اس کے ساتھ نرمی سے گفتگو کی۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسولؐ آپ نے اس کے متعلق وہ فرمایا تھا پھر آپ ﷺ نے اس سے نرمی سے بات کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برا شخص وہ ہوگا جس کی بد زبانی کی وجہ سے لوگ اس سے ملنا ترک کردیں۔

    (مسلم ،کتاب البر والصلۃ)
  • حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو آدمی نرمی اختیار کرنے سے محروم رہا وہ آدمی بھلائی سے محروم رہا۔

    (مسلم ، کتاب البر والصلۃ)
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے عائشہ اللہ تعالیٰ رفیق (آسانی کرنے والے) ہیں اور رفق اور نرمی کو پسند کرتے ہیں۔ وہ نرمی کی وجہ سے اتنی چیزیں عطا فرماتے ہیں جو سختی یا کسی اور وجہ سے عطا نہیں فرماتے۔

    (مسلم، کتاب البر والصلۃ )
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے وہ اس کو خوبصورت بنادیتی ہے اور جس چیز سے نرمی نکال دی جاتی ہے اس کو بدصورت کردیتی ہے۔

    (مسلم ،کتاب البر والصلۃ )
  • حضرت شریح ؒ سے روایت ہے کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہاسے بلاوہ (صحرا جنگل یا ایک مقام کا نام) کی طرف جانے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ آپؐ اس پست زمین کی طرف جاتے تھے جس طرف پانی کا بہاؤ ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ صحرا میں جانے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺنے صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی میری طرف بھیج دی جس پر سواری نہیں کی گئی تھی پس آپؐ نے فرمایا اے عائشہ اونٹنی سے نرمی سے پیش آنا کیونکہ جس معاملہ میں بھی نرمی ہوتی ہے تو وہ اس معاملہ کو مزین کردیتی ہے اور اگر کسی چیز سے نرمی ہٹادی جائے تو وہ اسے معیوب بنادیتی ہے۔

    (سنن ابی داوُد، جلد دوم کتاب الجہاد :2478)
1 2 

13

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق