مریض کی بیمار پُرسی

  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں، سلام کا جواب دینا، بیمار ہو تو اس کو جاکر پوچھنا، اس کے جنازے کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا، چھینک کا جواب دینا۔

    (بخاری، جلد اول کتاب الجنائز حدیث نمبر :1167)
  • حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو ایک بیماری ہوئی تو آنحضرت ﷺ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے کر ان کو پوچھنے کو گئے جب وہاں پہنچے دیکھا تو ان کے گھر والے خدمت کرنے والے سب جمع ہیں ۔آپؐ نے فرمایا کیا گزر گئے لوگوں نے کہا نہیں۔ یارسول اللہ! یہ سن کر نبی اکرم ﷺ روئے (سعد کی بیماری دیکھ کر) لوگوں نے جو آپؐ کو روتے دیکھا تو وہ بھی رو دیئے۔ آپؐ نے فرمایا سن لو! اللہ تعالیٰ آنکھ سے آنسو نکلنے پر اور دل رنجیدہ ہونے پر عذاب نہیں کرتا ۔وہ تو اس پر عذاب کرے گا آپؐ نے زبان کی طرف اشارہ کیا (زبان سے نوحہ کرنا) ۔اور دیکھو میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو جب ایسا دیکھتے تو لاٹھی اور پتھر سے مارتے اور رونے والوں کے منہ پر خاک جھونکتے۔

    (بخاری ، جلد اول کتاب الجنائز حدیث نمبر :1226)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ عزوجل فرمائیں گے اے ابن آدم، میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہیں کی۔ وہ شخص کہے گا کہ اے میرے رب، میں آپ کی عیادت کیسے کرتا حالانکہ آپ تو رب العالمین ہیں۔ا للہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے اس کے پاس پاتے۔ اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔ وہ شخص کہے گا۔ اے میرے رب میں آپ کو کھانا کیسے کھلاتا حالانکہ آپ تو رب العالمین ہیں۔ اللہ فرمائیں گے کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانا مانگا تم اگر اسکو کھانا کھلاتے تو تم مجھے اس کے پاس پاتے۔ اے ابن آدم، میں نے تم سے پانی مانگا تھا تم نے مجھے پانی نہیں پلایا۔ وہ شخص کہے گا۔ اے میرے رب، میں آپ کو کیسے پانی پلاتا حالانکہ آپ تو رب العالمین ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے فلاں بندہ نے تم سے پانی مانگا تھا اگر تم اس کو پلاتے تو تم مجھے اس کے پاس پاتے۔

    (مسلم، کتاب البر والصلۃ)
  • حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا مریض کی عیادت کرنے والا واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہتا ہے۔

    (مسلم، کتاب البر والصلۃ )
  • حضرت ام العلاء رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ میں بیمار تھی تو رسول اللہ ﷺ نے میری عیادت کی اور فرمایا۔ اے ام العلاء خوش ہوجاؤ کیونکہ مسلمان کی بیماری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ اس طرح ختم کردیتا ہے جس طرح آگ سونے اور چاندی کی میل کچیل کو ختم کردیتی ہے۔

    (سنن ابی داوُد، جلد دوم کتاب الجنائز: 3092)
  • حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اچھے انداز سے وضو کیا اور ثواب کی نیت سے مسلمان بھائی کی عیادت کی تو وہ ستر خریف کی مسافت کے برابر جہنم سے دورکردیا جاتا ہے۔ میں نے کہا: اے ابوحمزہ! حزیف سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا۔ سال۔

    (سنن ابی داوُد، جلد دوم کتاب الجنائز :3097)
  • حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو رہا کراؤ۔

    (سنن ابی داوُد ،جلد دوم کتاب الجنائز :3105)
  • حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا البتہ جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے توجنت کی کھجوریں برابر چنتا رہا ہے۔

    (جامع ترمذی، جلد اول باب الحج :968-967)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے کسی بیمار کی عیادت کی یا اللہ کے لئے کسی بھائی سے ملاقات کی پکارتا ہے اسے ایک پکارنے والا یعنی فرشتہ کہتا ہے تجھے مبار کباد ہو اور تیرا تیز چلنامبارک ہو اور تو نے جنت میں اترنے کی جگہ بنالی۔

    (جامع ترمذی ،جلد اول باب البروالصلۃ :2008)
  • حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جب بیمار پرسی کے لئے جاؤ تو بیمار کے پاس یہ دعا پڑھو۔ اللہم اشف عبدک (تر جمہ : اے اللہ، اپنے بندہ کو شفا عطا فرمایئے)

    (ابواوُد)
1 2 3 

26

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق