قرض کے احکام

  • حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگلے زمانے میں تم سے پہلے ایک آدمی مرگیا۔ فرشتوں نے اس کی روح سے ملاقات کی اور پوچھا تو نے کوئی نیک کام کی وہ بولا (کچھ نہیں مگر) میں نے اپنے غلاموں اور نوکروں کو یہ حکم دے رکھا تھا کہ کسی پر سخت تقاضا نہ کریں مال دور کو مہلت دیں اور محتاج کو معاف کردیں یہ سن کر فرشتوں نے بھی اس کو چھوڑ دیا۔

    (بخاری، جلد اول کتاب البیوع حدیث نمبر :1948 )
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک سوداگر تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا پھر جب دیکھتا کہ کوئی محتاج ہے تو اپنے آدمیوں سے کہتا اس کو معاف کردو شاید اللہ ہم کو بھی معاف کرے آخر (جب وہ مرگیا تو) اللہ نے اس کو بخش دیا۔

    (بخاری ، جلد اول کتاب البیوع حدیث نمبر :1949)
  • حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے سامنے نماز پڑھنے کے لئے ایک جنازہ لایا گیا، آپ ﷺ نے پوچھا کیا اس پر قرض تھا؟ لوگوں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے اس پر نماز پڑھی۔ پھر دوسرا جنازہ آیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا اس پر قرض تھا؟ لوگوں نے کہا جی ہاں آپؐ نے صحابہ سے فرمایا تم اپنے ساتھی پر نماز پڑھ لو۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہؐ اس کا قرض میں نے اپنے اوپر لے لیا۔ تب آپؐ نے اس پر نماز پڑھی۔

    (بخاری ، جلد اول کتاب الکفالۃ حدیث نمبر:2147)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ پر ایک شخص کا ایک اونٹ قرض تھا وہ تقاضا کرنے آیا آپؐ نے صحابہ سے فرمایا اس کو اسی عمر کا اونٹ دے دو۔ ڈھونڈا تو اس عمر کا اونٹ نہ ملا اس سے بڑھ کر (جو قیمت میں زیادہ ہوتا ہے) ملا۔�آپؐ نے فرمایا وہی دے دو۔ تب وہ بولا آپؐ نے میرا حق پورا دے دیا اللہ آپؐ کو پورا دے۔ تب آپؐ نے فرمایا تم میں اچھے وہی لوگ ہیں جو قرض کو خوبی کے ساتھ ادا کریں۔

    (بخاری ، جلد اول کتاب الوکالۃ حدیث نمبر :2156)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کا مال اس نیت سے لے کہ اس کو ادا کرے گا تو اللہ اس کی طرف سے ادا کرے گا اور جو اس کو تباہ کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو تباہ کردے گا۔

    (بخاری، جلد اول کتاب الاستقراض حدیث نمبر :2228)
  • حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے ایک قرضے کا حضرت عبداللہ بن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے تقاضا کیا خاص مسجد نبوی میں آنحضرت ﷺ کے زمانے میں۔ دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے حجرے میں (دونوں کی بلند آوازیں) سن لیں (ان کی آوازوں کو سن کر) باہر برآمد ہوئے اور حجرے کا پردہ اٹھایا اور کعب بن مالک کو پکارا اور کہا اے کعب !حضرت کعبؓ نے کہا یارسول اللہ حاضر ہوں۔ آپ نے اشارہ کیا آدھا قرض معاف کردے۔ حضرت کعب نے کہا جو حکم، میں نے معاف کردیا یارسول اللہ۔ تب آپؐ نے ابن حدردؓ سے فرمایا چل اٹھ اس کا قرض ادا کر۔

    (بخاری ، جلد اول کتاب الصلوۃ حدیث نمبر :655)
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نماز میں یہ دعا مانگتے تھے۔ یا اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ سے اور قرض داری سے۔ کسی کہنے والے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے آپؐ سے کہا یارسول اللہ اس کی کیا وجہ ہے جو آپؐ قرضداری سے بہت پناہ مانگتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا آدمی جب قرضدار ہوتا ہے اور بات کہتاہے تو جھوٹ اور وعدہ خلافی کرتا ہے۔

    (بخاری، جلد اول کتاب الاستقراض حدیث نمبر:2238)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مالدار کا قرض ادا کرنے میں دیر لگانا ستم (گناہ) ہے

    (بخاری ، جلد اول کتاب الاستقراض حدیث نمبر :2241)
  • حضرت ابوسلمیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک اونٹ قرض لیا پھر قرض والا تقاضا کرتا ہوا آیا (سخت کلامی کی) آپؐ نے فرمایا جس کا قرض آتا ہو وہ ایسی باتیں کرسکتا ہے پھر اس کے اونٹ سے بہتر اونٹ دیا اور فرمایا تم میں اچھے وہی ہے جو قرض اچھی طرح ادا کریں۔

    (بخاری ، جلد اول کتاب الہبۃ حدیث نمبر :2435)
  • حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اللہ تعالیٰ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا اللہ تعالیٰ نے اس کو مال دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تونے دنیا میں کیا عمل کیا۔ لوگ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہیں سکتے اس شخص نے کہا اے میرے رب آپ نے مجھے مال عطا فرمایا تھا اورمیری عادت درگزر کرنا تھی میں مال دار پر آسانی کرتا اور تنگ دست کو قرض ادا کرنے کی مہلت دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تجھ سے زیادہ درگزرکرنے کا حقدار ہوں (اے میرے فرشتو) میرے اس بندے سے درگزر کرو۔

    (مسلم، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ )
1 2 3 

26

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق