استغفار و توبہ

  • حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہے تو اللہ کو اس توبہ کرنے والے پر، اس آدمی سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جو جنگل میں سواری پر جانے (آرام کے لئے سوجائے) اس دوران سواری کہیں اور چلی جائے جس پر اس کا کھانا اور پانی ہو۔ وہ جب بیدار ہو تو اپنی سواری کونہ پائے اور مایوس ہوکر ایک درخت کے سائے میں لیٹ جائے۔ جس وقت وہ سواری سے مایوس ہوکر لیٹا ہوا ہو پھر اچانک سواری اس کے پاس واپس آجائے اور وہ اس کی لگام پکڑے اور خوشی کی شدت سے یہ کہے۔ اے اللہ آپ میرے بندہ ہیں اور میں آپ کا رب ہوں۔ یعنی شدت مسرت کی وجہ سے الفاظ الٹ ہوجائیں۔

    (مسلم ، کتاب التوبۃ )
  • حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے آدم کے بیٹے جب تک تم مجھ سے دعا کرتے رہو گے اور مجھ سے امیدیں وابستہ رکھو گے میں تم کو معاف کرتا رہوں گا جو گناہ بھی تم نے کئے ہوں گے اور مجھے کچھ پرواہ نہیں (تم نے کتنے گناہ کئے)۔ اے آدم کے بیٹے، اگر تیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تم مجھ سے معافی طلب کرو تو میں تمہیں معاف کردوں گا اور مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ اے آدم کے بیٹے، اگر تم زمین کے برابر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملاقات کرو لیکن جب تیری مجھ سے ملاقات ہو تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں تیرے پاس ان گناہوں کے برابر بخشش کے ساتھ آؤں گا۔

    (ترمذی)
  • حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جس آدمی نے استغفار کو لازم کرلیا اللہ تعالیٰ اس کو ہر تنگی سے نکال دیں گے، اس کے ہر غم کو دور کردینگے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائیں گے جہاں سے اس کو وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔

    (ابوداوُد، ابن ماجہ)
  • حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: سب بنی آدم خطا کار ہیں اور وہ خطا کار اچھے ہیں جو خطا کے بعد اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے ہیں۔

    (ترمذی، ابن ماجہ)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ایماندار آدمی جب گناہ کرتا ہے تو گناہ کا سیاہ نقطہ اس کے دل پر نمودار ہوجاتا ہے۔ اگر وہ توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ مزید گناہ کرنے لگ جائے تو زنگ میں اضافہ ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ زنگ اس کے دل پر غالب آجاتا ہے پس یہی وہ زنگ ہے جس کے بارے میں فرمان الہٰی ہے:  کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون۔  (مصطففین ۸۳ آیت ۱۴) ( ترجمہ :ہر گز نہیں بلکہ ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کے دل زنگ آلود ہیں)۔

    (ترمذی، ابن ماجہ)
  • حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ اس وقت تک قبول کرتے ہیں جب تک نزع کی حا لت طاری نہ ہوجائے۔

    (ترمذی، ابن ماجہ)
  • حضرت ابی ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے میرے بندو، تم سب گمراہ ہو مگر جسکو میں ہدایت دوں پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تمیہں ہدایت عطاکروں گا۔ تم سب محتاج ہو مگر جس کومیں نواز دوں، تم مجھ سے سوال کرو میں تمہیں (نواز) دونگا۔ تم سب گناہ گار ہو مگر جس کو میں محفوظ کروں، پس تم میں سے جو آدمی اس بات پر یقین رکھے کہ میں گناہوں کو معاف کرنے پر قدرت رکھتا ہوں اور مجھ سے معافی طلب کرے تو میں اس کو معاف کروں گا اور مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ اگر تمہارے اگلے پچھلے زندہ، فوت شدہ، جوان اور بوڑھے میرے بندوں میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوجائیں تو اس سے میری بادشاہت میں مچھر کے ایک پر کے برابر بھی اضافہ نہیں ہوگا اور اگر تمہارے زندہ، فوت شدہ، جوان اور بوڑھے میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ بدبخت ہوجائیں تو اس سے میری بادشاہت میں مچھر کے ایک پر کے برابر بھی کمی نہ ہوگی اور اگر تمہارے اگلے پچھلے زندہ، فوت شدہ، جوان اور بوڑھے ایک چٹیل میدان میں جمع ہوجائیں اور تم میں سے ہر آدمی اپنی اپنی انتہائی آرزو کا سوال کرے اور میں تم میں سے ہر سوال کرنیوالے کے سوال کوپورا کروں تو اس سے میری بادشاہت میں اتنی کمی بھی نہیں آئے گی جس قدر کہ تم میں سے ایک آدمی سمندر کے قریب سے گزرے اور اس میں سوئی ڈبوئے پھر اس کو نکال لے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں سخی ہوں۔ بزرگی اور کرم والا ہوں، میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں، میرا عطا کرنا کلمہ کن (ہوجا) سے ہے اور میرا عذاب بھی کلمہ کن سے ہے، میں جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہوں تو میں کن کہتا ہوں تو وہ کام ہوجاتا ہے۔

    (ترمذی، ابن ماجہ)
  • حضرت بلال بن یسار بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مندرجہ ذیل کلمات کے ذریعہ اللہ رب العزت سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرے گا تو اسے ضرور معاف کردیا جائے گا۔ اگرچہ وہ میدان جہاد سے بھاگا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔ استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھوا الحی القیوم واتوب الیہ۔ (ترجمہ:میں اللہ رب العزت سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ ہمیشہ سے زندہ اور قائم ہے اور میں اسی سے توبہ کرتا ہوں)۔

    (ترمذی، ابوداوُد)
  • حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اس آدمی کی (آخرت کی زندگی) نہایت عمدہ ہے جس نے اپنے اعمال میں کثرت کے ساتھ استغفار لکھا ہوا پایا۔

    (ابن ماجہ)
  • حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: میرے بندے! بے شک جب تک تو میری عبادت کرتا رہے گا اور مجھ سے (مغفرت کی) امید رکھے گا میں تجھ کو معاف کرتا رہوں گا چاہے تجھ میں کتنی ہی برائیاں کیوں نہ ہوں۔ میرے بندے! اگر تو زمین بھر گناہ کے ساتھ بھی مجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو میں بھی زمین بھر مغفرت کے ساتھ تجھ سے ملوں گا (یعنی بھرپور مغفرت کردوں گا)۔

    (مسند احمد)
1 2 

15

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق