فال اور بدشگونی علمِ نجوم

  • حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حدیبیہ میں ہم کو صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو پانی برس چکا تھا جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا تم جانتے ہو تمہارا پروردگار کیا فرماتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آج صبح کو میرے کچھ بندے مومن ہوئے، کچھ کافر، جس نے کہا اللہ کے فضل سے اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی وہ تو میرا مومن ہے اور ستاروں کا منکر اور جس نے کہا فلانے تارے کی فلانی جگہ پر آنے سے بارش ہوئی وہ میرا منکر ہے اور ستاروں کا مومن ہے۔

    (بخاری ، جلد اول کتاب الصلوۃ حدیث نمبر:805)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا نہ ہی الو (کی نحوست) نہ ہی ستارہ (کی وجہ سے بارش) اور نہ ہی صفر (کے مہینہ کی نحوست) کی کوئی حقیقت ہے۔

    (مسلم ،کتاب السلام)
  • حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور نہ کوئی بدشگونی ہے لیکن نیک فال مجھے پسند ہے آپ ﷺ سے عرض کیا نیک فال کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اچھی بات۔

    (مسلم، کتاب السلام)
  • حضرت معاویہ بن حکیم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم زمانہ جاہلیت میں کاہنوں کے پاس جاتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم کاہنوں کے پاس نہیں جایا کرو۔ میں نے عرض کیا ہم بدشگونی لیتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا یہ بدشگونی محض تمہارے دل کا ایک خیال ہے تم ایسا نہ کرو۔

    (مسلم ، کتاب السلام)
  • حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کاہن (نجومی) کے پاس جاکر کوئی بات پوچھی اس کی ۴۰ دن تک نمازیں قبول نہیں ہوں گی۔

    (مسلم، کتاب السلام )
  • حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے علم نجوم میں سے کچھ حصہ سیکھا اس نے جادو کا علم سیکھا پس وہ بڑھتا گیا (جادو میں) جس قدر بڑھتا گیا اس (علم نجوم) میں۔

    (سنن ابی داوُد ،کتاب الطب جلد سوئم :3905)
  • حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک انصاریؓ نے بیان کیا کہ ایک رات وہ رسول اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک ستارہ ٹوٹا اور اس کی روشنی پھیل گئی۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا زمانہ جاہلیت میں تم اس حادثہ کے متعلق کیا کہتے تھے؟ صحابہؓ نے عرض کیا ہم تو یہ کہتے تھے آج رات کوئی بڑا آدمی پیدا ہوا ہے یا کوئی بڑا آدمی فوت ہوگیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایاستارہ اس وجہ سے نہیں ٹوٹتا کہ کوئی مرتا ہے یا پیدا ہوتا ہے بلکہ جب ہمارا رب کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش الہٰی کو اٹھانے والے فرشتے سبحان اللہ کہتے ہیں پھر ان کے قریب والے فرشتے سبحان اللہ کہتے ہیں یہاں تک کہ ان کی تسبیح آسمان دنیا کے فرشتوں تک پہنچتی ہے پھر عرش الہٰی کو اٹھانے والے فرشتوں کے قریب والے ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ وہ خبر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا پھر آسمان کے فرشتے دوسروں کو بتاتے ہیں حتی کہ آسمان دنیا تک یہ خبر پہنچتی ہے۔ پھر جن (شیطان) اس سنی ہوئی بات کو لے اڑتے ہیں (اس پر فرشتے کوڑا پھینکتے ہیں جو ہمیں ستارہ ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے) اور (کاہنوں کے) کانوں میں ڈال دیتے ہیں وہ اسی طرح خبر دیں تو وہ سچ ہوتی ہے لیکن وہ (کاہن) اس میں اپنی مرضی سے کچھ ملادیتے ہیں (جس میں سے بعض باتیں سچی ہوتی ہیں اور بعض جھوٹی نکلتی ہیں)۔

    (مسلم ،کتاب السلام )
  • حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کسی چیز کے متعلق نیک یا بدشگون نہیں لیا کرتے تھے آپ جب کسی گورنر کو کہیں(گورنر بنا کر) بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے اگر اس کا نام آپ کو اچھا لگتا تو اس سے فرحت محسوس کرتے اور اس فرحت کی بشاشت آپ ﷺ کے چہرہ انور پر دکھائی دیتی تھی اور اگر آپ اس کا نام ناپسند کرتے تو اس کی کراہت بھی آپ ﷺ کے چہرہ انور پر نظر آتی تھی۔

    (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الطب :3920)
  • حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے ہامۃ عدوی اور طیرہ (بدشگونی) کی کچھ حقیقت نہیں اور اگر بدشگونی کسی چیز میں ہوسکتی ہے تو وہ گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوسکتی ہے۔

    (سنن ابی داوُ د ،جلد سوئم کتاب الطب :3921)
  • حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم ایک گھر میں رہتے تھے وہاں ہماری تعداد بہت زیادہ تھی اور ہمارا مال بھی بہت زیادہ تھا۔ پس ہم دوسرے گھر میں منتقل ہوگئے تو اس میں ہماری تعداد بھی بہت کم ہوگئی اور ہمارے اموال بھی کم ہوگئے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے مذموم (ناپسندیدہ ناموافق) قرار دے کر چھوڑ دو۔

    (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الطب :3924)
1 2 

11

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق