غیبت اور چغل خوری

  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے (مسلمان) بھائی (کی غیر موجودگی میں اس) کے بارے میں ایسی بات کہنا جو اسے ناگوار گزرے (بس یہی غیبت ہے) کسی نے عرض کیا: اگر میں اپنے بھائی کی کوئی ایسی برائی ذکر کروں جو واقعتا اس میں ہو (تو کیا یہ بھی غیبت ہے)؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا اگر وہ برائی جو تم بیان کررہے ہو اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ برائی (جو تم بیان کررہے ہو) اس میں موجود ہی نہ ہو تو پھر تم نے اس پر بہتان باندھا۔

    (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4874) (مسلم)
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے کہا آپ ﷺ کے لئے صفیہؓ (زوج النبیؐ) کا یہی نقص کافی ہے یعنی ان کا قد چھوٹا ہے (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے ایک ایسا کلمہ کہا ہے اگر اسے سمندر کے پانی سے ملا دیا جائے تو یہ اس پر غالب آجائے (اس بات کی تاثیر سمندر کے پانی پر غالب آجائے)۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہے کہ میں نے آپ ﷺ کے سامنے کسی شخص کی نقل اتاری تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے کسی انسان کی نقل اتارنا پسند نہیں اگرچہ مجھے جتنا مرضی مال کیوں نہ مل جائے۔

    (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4875)
  • حضرت ابو سعد اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا غیبت کرنا زنا سے زیادہ (برا) ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یارسول اللہ غیبت کرنا زنا سے زیادہ (برا) کیسے ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی اگر زنا کرلیتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتے ہیں۔ مگر غیبت کرنے والے کو جب تک وہ شخص معاف نہ کردے جس کی اس نے غیبت کی ہے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے معاف نہیں کیا جاتا۔

    (بیہقی)
  • حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب میرا رب مجھے معراج پر لے گیا تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو (ناخنوں سے) نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا اے جبرائیلؑ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے (ان کی غیبتیں کرتے تھے) اور ان کی عزتیں پامال کرتے تھے۔

    (ابوداوُد)
  • حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے وہ لوگو جو صرف زبانی اسلام لائے ہو اور ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا ۔مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑا کرو کیونکہ جو مسلمانوں کے عیوب کے پیچھے پڑتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے عیب کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اسے گھر بیٹھے رسوا کردیتے ہیں۔

    (ابوداوُد)
  • حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک بدبو اٹھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جانتے ہو یہ بدبو کس کی ہے؟ یہ بدبو ان لوگوں کی ہے جو مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں۔

    (مسند احمد، مجمع الزوائد)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو بندہ دنیا میں کسی کے عیب کو چھپائے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے عیب کو چھپائے گا۔

    (مسلم ، کتاب البر والصلۃ )
  • حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم کو یہ نہ بتاؤں کہ کیا چیز سخت حرام ہے؟ پھر فرمایا یہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان پھیل جاتی ہے۔ انسان سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ صدیق (سچا) لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کو کذاب (جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔

    (مسلم ، کتاب البر والصلۃ )
  • حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔

    (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4871)
  • حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ نے ارشاد فرمایا ان دونوں قبر والوں کو عذاب ہورہا ہے اور عذاب بھی کسی بڑی چیز پر نہیں ہورہا (کہ جس سے بچنا مشکل ہو) ان میں سے ایک تو پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا۔

    (بخاری)
1 2 

11

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق