امانت داری

  • حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امانتدار خزانچی کے لئے بھی صدقہ کرنے والے کے برابر ہی ثواب ہے جب وہ امیر کے حکم کے مطابق خوش دلی سے پورا پورا مال اس شخص کے حوالے کردیتا ہے جس کے لئے حکم ہوا ہے۔

    (سنن ابی داوُد، جلد اول کتاب الزکوۃ :1684)
  • حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جو وعدہ کا خیال نہیں کرتا اس کے دین کا کوئی اعتبار نہیں۔

    (مشکوۃ، کتاب الایمان )
  • حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کو بھی کسی رعیت کا نگران بناتے ہیں خواہ رعیت تھوڑی ہو یا زیادہ تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کی رعیت کے بارے میں قیامت کے دن ضرور پوچھیں گے کہ اس نے ان میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کیا تھا یا برباد کیا تھا یہاں تک کہ خاص طور پر اس سے اس کے گھر والوں کے متعلق پوچھیں گے۔

    (مسند احمد)
  • حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ مجھے امیر کیوں نہیں بناتے؟ رسول اللہ ﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر ارشاد فرمایا: ابوذر! تم کمزور ہو اور یہ امارت ایک امانت ہے (کہ جس کے ساتھ بندوں کے حقوق متعلق ہیں) اور یہ (امارت) قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا سبب ہوگی، لیکن جس شخص نے اس امارت کو صحیح طریقہ سے لیا اور اس کی ذمہ داریوں کو پورا کیا (تو پھر یہ امارت قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا ذریعہ نہ ہوگی)۔

    (مسلم)
  • حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: اے عبدالرحمن بن سمرہ امارت کو طلب نہ کرو، اگر تمہارے طلب کرنے پر تمہیں امیر بنادیا گیا تو تم اسکے حوالہ کردیئے جاؤ گے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری کوئی مدد اور رہنمائی نہ ہوگی) اور اگر تمہاری طلب کے بغیر تمہیں امیر بنادیا گیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس میں تمہاری مدد کی جائے گی۔

    (بخاری)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب کہ تم امیر بننے کی حرص کرو گے حالانکہ امارت تمہارے لئے ندامت کا ذریعہ ہوگی۔ امارت کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک دودھ پلانے والی عورت کہ ابتداء میں تو بڑی اچھی لگتی ہے اور جب دودھ چھڑانے لگتی ہے تو وہی بہت بری لگنے لگتی ہے۔

    (بخاری)
  • حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جو امیر مسلمانوں کے معاملات کا ذمہ دار بن کر مسلمانوں کی خیر خواہی میں کوشش نہ کرے وہ مسلمانوں کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوسکے گا۔

    (مسلم)
  • حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مسلمان رعیت کا ذمہ دار بنے پھر ان کے ساتھ دھوکہ کا معاملہ کرے اور اسی حالت پر اس کی موت آجائے تو اللہ تعالیٰ جنت کو اس پر حرام کردیں گے۔

    (بخاری)
  • حضرت ابو مریم ازدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے کسی کام کا ذمہ دار بنایا اور وہ مسلمانوں کے حالات، ضروریات اور ان کی تنگدستی سے منہ پھیرے یعنی ان کی ضرورت کو پور انہ کرے اور نہ ان کی تنگدستی کے دور کرنے کی کوشش کرے توقیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے حالات، ضروریات اور تنگدستی سے منہ پھیر لیں گے (یعنی قیامت کے دن اسکی ضرورت اور پریشانی کو دور نہیں فرمائیں گے۔)

    (ابوداوُد)
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اس گھر میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا اے اللہ! جو شخص میری امت کے (دینی و دنیاوی) معاملات میں سے کسی بھی معاملہ کا ذمہ دار بنے پھر وہ لوگوں کو مشقت میں ڈالے تو آپ بھی اس شخص کو مشقت میں ڈالئے۔ اورجو شخص میری امت کے کسی بھی معاملہ کا ذمہ دار بنے اور لوگوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے آپ بھی اس شخص کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرمایئے۔

    (مسلم)
1 2 

14

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق