ظلم

  • حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہم کو سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا پھر جن باتوں کا حکم دیا ان کا بیان کیا۔ بیمار پرسی کرنا اور جنازوں کے ساتھ جانا اور چھینک کا جواب دینا اور سلام کا جواب دینا اور مظلوم کی مدد کرنا اور دعوت قبول کرنا اور قسم دینے والے کی قسم پوری کرنا۔

    (بخاری ،جلد اول کتاب المظالم حدیث نمبر :2281)
  • حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔

    (جامع ترمذی جلد اول باب البر والصلۃ :2030) (بخاری ،جلد اول کتاب المظالم حدیث نمبر۲۲۸۳)
  • حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا دیکھ مظلوم کی بدعا سے بچے رہنا کیونکہ اس کو اللہ تک پہنچنے میں کوئی روک نہیں۔

    (بخاری، جلد اول کتاب المظالم حدیث نمبر:2285)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے دوسرے کسی کی عزت یا آبرو ریزی کی ہو یا اور کوئی ظلم کیا ہو تو وہ آج دنیا میں معاف کرالے اس دن سے پہلے جہاں نہ روپیہ ہوگا نہ اشرفی ۔البتہ نیک عمل اس کے پاس ہوگا وہ لے لیا جائے گا اس ظلم کے موافق اور اگر (اس کے نامہ اعمال میں) نیک عمل نہ ہوگا تو مظلوم کی برائیاں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی۔

    (بخاری، جلد اول کتاب المظالم حدیث نمبر :2285)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک دوسرے سے حسد نہ کرو،بلاوجہ چیزوں کی قیمتیں نہ بڑھاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے ناراضگی نہ رکھو، کسی کی بیع پر بیع نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ لہذا کوئی بھی اپنے بھائی پر ظلم نہ کرے۔ اس کو رسوا نہ کرے، اس کو حقیر نہ سمجھے۔ رسول کریم ﷺ نے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کرکے 3 بار فرمایا تقویٰ یہاں ہے۔ کسی شخص کی برائی کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے، ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر اس کا خون بہانا، اس کی عزت پامال کرنا اور اس کا مال لوٹنا حرام ہے۔

    (مسلم ، کتاب البر والصلۃ)
  • حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن کی تاریکیاں (جہنم کے اندھیروں میں لے جانے والے) ہیں اور کنجو سی سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو کنجوسی (کی عادت) نے ہلاک کردیا۔ اس کنجوسی نے ان کو خونریزی کرنے اور حرام کو حلال کرنے پر بھڑکایا۔

    (مسلم ، کتاب البروالصلۃ )
  • حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے، نہ اس کو ذلیل کرے جو شخص اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد میں رہتا ہے۔ جو شخص کسی مسلمان کی مصیبت دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مصیبت دور کردے گا۔ جو شخص کسی مسلمان (کے عیبوں) کا پردہ رکھے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا۔

    (مسلم ، کتاب البر والصلۃ)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہوتا ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس مال و دولت نہ ہو ۔آپ ﷺ نے فرمایا میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن بہت زیادہ نماز، روزہ اور زکوۃ لے کر آئے گا اور اس شخص نے (دنیا میں) کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا تھا پھر اسے (مظلوم کو) اس کی نیکیاں مل جائیں گی اور اگر ان کے حقوق پورے ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

    (مسلم، کتاب البر والصلۃ )
  • حضرت ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو کچھ وقت کے لئے مہلت دیتے ہیں اور جب اس کو پکڑ لیتے ہیں تو پھر نہیں چھوڑتے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
    (ترجمہ) : اور جب بھی آپ کا رب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو اس کی گرفت ایسی ہی سخت ہوتی ہے بے شک اللہ تعالیٰ کی پکڑ سخت اور درد ناک ہے۔ (سورۃ الاعراف ۱۱: آیت۱۰۲)

    (مسلم ،کتاب البر والصلۃ )
  • حضرت ہشام بن حکیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں میں نے دیکھا کہ حمص (جگہ کا نام) کے حاکم نے کچھ لوگوں کو جزیہ (ٹیکس) نہ دینے کی وجہ سے دھوپ میں کھڑا کر رکھا ہے۔ پوچھا :۔ یہ کیا ہے؟ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو( بلاوجہ) سزا دیتے ہیں۔

    (مسلم، کتاب البر والصلۃ )
1 2 

13

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق