صحابہ کرام کی فضیلت

  • حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اصحاب میں سے دو شخص عباد بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے میں سمجھتا ہوں اسید بن حضیرؓ تھے اندھیری رات میں آنحضرت ﷺ کے پاس سے نکلے ( اپنے گھر جانے کو) ان کے ساتھ ( نور کے) دو چراغ ہوگئے جوان کے آگے روشنی دے رہے تھے جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو ہر ایک کے ساتھ ایک ایک چراغ رہ گیا جو گھر تک ساتھ رہا۔

    (بخاری ،جلد اول ، کتاب الصلٰوۃ ،حدیث نمبر 449)
  • حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خطبہ سنایا تو فرمایا اللہ پاک نے ایک (اپنے ) بندے کو اختیار دیا چاہے دنیا میں رہے چاہے جو اللہ کے پاس ہے اس کو اختیار کرے اس نے وہ پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے۔ یہ سن کر ابو بکر رو دیے ۔میں نے اپنے دل میں کہا یہ بوڑھا روتا کیوں ہے (اس کو کیا غر ض کہ اللہ نے اپنے ایک بندے کو دنیا یا آخرت دونوں میں سے جس کو وہ چاہے اختیار دیا اس نے آخرت کو اختیار کیا )بعد میں مجھ کو معلوم ہوا بندے سے مراد خود آنحضرت ﷺ تھے اور ابوبکرؓ ہم سب لوگوں میں زیادہ علم رکھتے تھے ۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ابوبکر رو نہیں سب لوگوں میں کسی کے مال اور صحبت کا احسان مجھ پراتنا نہیں جتنا ابوبکر کا ہے اور اگر میں اپنی امت کے لوگوں میں کسی کو جانی دوست بتاتا تو ابوبکر کو جانی دوست بتاتا البتہ اسلام کی برادری اور دوستی ہے ۔ دیکھو مسجد میں کس کا دروازہ کھلا نہ رہے بند کر دیا جائے مگر ابوبکرؓ کا دروازہ ۔

    (بخاری ،جلد اول کتاب الصلوٰۃ ،حدیث نمبر 450)
  • حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی اس بیماری میں جس میں انتقال فرمایا ایک کپڑے سے اپنا سر باندھے ہوئے باہر نکلے پھرمنبر پر بیٹھے اللہ کی تعریف بیان کی اور اس کی ثناء ۔پھر فرمایا لوگوں میں کسی کا احسان اپنی جان اورمال سے مجھ پر ابوبکر بن ابی قحافہؓ سے زیادہ نہیں ہے اور اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا (جانی دوستی اللہ کے سواکسی سے نہیں ہوسکتی ) مگراسلام کی دوستی یہ ( کیا کم ہے) بہت اچھی ہے۔ دیکھو اس مسجد میں جتنی کھڑکیاں ہیں سب بند کر دو ابوبکرؓ کی کھڑکی رہنے دو۔

    (بخاری، جلد اول کتاب، الصلوٰۃ، حدیث نمبر 451)
  • حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے (کچھ روپیہ) مانگا۔ آپ ﷺ نے دیا ،پھرمانگا پھرآپ نے دیا ،پھر فرمایا حکیم یہ (دنیا کا مال) ہرا بھرا (ظاہر میں) بہت شیریں لیکن جو کوئی اپنا نفس سخی رکھ لے تو برکت ہوگی۔ اور جو کوئی جی میں لالچ رکھ لے تو اس کو برکت نہ ہوگی اس کا حال اس شخص کا سا ہوگا جو کھائے اور سیر نہ ہو اوردینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے حکیم بن حزامؓ کہتے ہیں میں نے آپ ﷺسے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! قسم ہے اس کی جس نے آپ ﷺ کو سچائی کے ساتھ بھیجا۔ میں اب آپ ﷺ کے بعد مرنے تک کسی سے کچھ نہیں لوں گا۔ (حکیمؓ اسی قول پر قائم رہے) حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنی خلافت میں حکیمؓ کو ان کا معمول دینے کے لئے بلاتے تو وہ نہ لیتے ۔پھر حضرت عمرؓ نے بھی اپنی خلافت میں ان کو ان کا حصہ دینے کے لئے بلایا انہوں نے لینے سے انکار کیا۔ آخر حضرت عمرؓ نے لوگوں سے کہا تم گواہ رہنا مسلمانو! میں حکیمؓ کو ملک کی آمدنی میں ان کا حصہ دے رہا ہوں مگر وہ لینے سے انکار کر رہے ہیں۔ غر ض حکیمؓ نے پھر آنحضرت ﷺ کے بعد کسی سے کوئی چیز قبول نہیں کی یہاں تک کہ مر گئے۔

    (بخاری ،جلد اول کتاب الزکوٰۃ ،حدیث نمبر 1387)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا (دو روپیہ یا دو کپڑے یا اور کوئی چیزیں) خرچ کرے گا اس کو (فرشتے) بہشت کے دروازوں سے پکاریں گے۔ خدا کے بندے یہ دروازہ اچھا ہے۔ پھر جو کوئی مجاہد ہوگا وہ جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ جو زکوٰۃ دینے والا ہوگا وہ زکوٰۃ کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ سن کر عرض کیا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر صدقے یا رسول اللہ ﷺ اگر کوئی ان دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے بھی بلایا جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن کوئی ایسا بھی ہوگا جوان سب دروازوں سے بلایا جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ایسے لوگ بھی ہوں گے اور مجھے امید ہے تم ان لوگوں میں ہوگے۔

    (بخاری ، جلد اول کتاب الصوم، حدیث نمبر 1779)
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے آج کس نے روزہ رکھا ؟ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ نے عرض کیا کہ میں نے آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے آج کس نے مسکین کو کھانا کھلایا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے آپ ﷺنے فرمایا تم میں سے کس نے آج مریض کی عیادت کی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ سب کام جس شخص میں جمع ہوجائیں تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔

    (مسلم ،کتاب الزکوۃ )
  • حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارویٰ بنت اویس نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ پر دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس کی زمین میں سے کچھ لے لیا ہے وہ یہ مقدمہ مروان بن حکم کے ہاں لے گئی۔ تو سعید رضی اللہ عنہ نے کہہ کیا میں رسول کریم ﷺ سے سننے کے بعد اس کی زمین میں سے کچھ حصہ لے سکتا ہوں؟ مروان نے کہا تم نے رسول کریم ﷺ سے کیا سنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے سناکہ جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلم سے لے لی تو اس کے گلے میں ساتوں زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔ پھر ان سے مروان نے کہامیں آپ سے اس کے بعد گواہ نہیں مانگوں گا۔ پھر سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ اگر یہ (عورت) جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کردے اور اس کی زمین ہی میں اسے ماردے۔ (وہ عورت بینائی جانے سے پہلے نہ مری بلکہ وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ اچانک ایک گڑھے میں گر کر مرگئی)

    (مسلم ،کتاب الربا )
  • حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم ﷺ نے مجھے لشکر ذات السلاسل میں امیر بناکر بھیجا میں نے آپؐ کے پاس آکر عرض کیا کہ آپؐ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہا ۔میں نے عرض کیا مردوں میں؟ آپؐ نے فرمایا ان کے والد ۔میں نے عرض کیا پھر کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا عمرؓ۔

    (مسلم ،کتاب فضائل الصحابۃ)
  • حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا جنازہ تخت پر رکھا گیا تو لوگ ان کے گرد جمع ہوگئے وہ ان کے حق میں دعا کرتے تحسین آمیز کلمات کہتے اور میت اٹھائے جانے سے پہلے ان کی نماز جنازہ پڑھ رہے تھے میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا۔ اچانک ایک شخص نے پیچھے سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا میں نے گھبرا کر مڑ کر دیکھا تو وہ علیؓ تھے انہوں نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لئے دعائے رحمت کی اور کہا (اے عمر) آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جس کے کئے ہوئے اعمال کے ساتھ مجھے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنا پسند ہو۔ اللہ کی قسم، مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کا مقام آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ کردیں گے کیونکہ میں ر سول اکرم ﷺ سے بکثرت یہ سنتا تھا میں ابوبکر، اور عمر آئے میں ابوبکر اور عمر نکلے اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا۔

    (مسلم ،کتاب فضائل الصحابۃ)
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول کریم ﷺ میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور اس وقت آپؐ کی دونوں پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی آپؐ نے ان کو اجازت دے دی۔ اس وقت بھی آپؐ اسی حال میں ہی لیٹے رہے ۔پھر آپؐ باتیں کرتے رہے ۔پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی ان کو بھی آپ ﷺ نے اجازت دے دی پھر بھی آپؐ اسی حالت میں لیٹے رہے اور باتیں کرتے رہے پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو رسول کریمؐ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کرلئے ۔عثمانؓ آئے اور باتیں کرنے لگے جب وہ چلے گئے تو میں نے پوچھا جب ابوبکرؓ آئے تو آپؐ نے ان کا کچھ خیال نہیں کیا اور نہ ہی ان کی پرواہ کی۔ عمرؓ آئے تو بھی آپؐ نے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی اور جب عثمانؓ آئے تو آپؐ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آپؐ نے اپنے کپڑے درست کئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں اس شخص سے کیسے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔

    (مسلم ،کتاب فضائل الصحابۃ)
1 2 3 4 5 6 

52

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق