اذان

  • حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمان جب ( پہلے پہل) مدینہ میں آئے تو نماز کے لئے یوں ہی جمع ہو جاتے ایک وقت ٹھہرا لیتے، نماز کے لئے اذان نہیں ہوتی تھی ۔ ایک دن انہوں نے اس بارے میں گفتگو کی تو بعض کہنے لگے (ایسا کرو) نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ بنا لو، اور بعضوں نے کہا یہودیوں کی طرح ایک نرسنگا (بگل) بنا لو (اس کو پھونک دیا کریں) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ایسا کیوں نہیں کرتے ایک آدمی کو مقرر کرو، ہو نماز کے لئے پکار دیا کرے۔ اس وقت آنحضرت ﷺنے ( اس رائے کو پسند کیا) بلالؓ سے فرمایا اُٹھ نماز کے لئے اذان دے۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب اذان، حدیث نمبر 575 )
  • حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا گیا کہ اذان کے الفاظ دودو بار اور تکبیر کے ایک ایک بار کہیں مگر قد قامت الصلوٰۃ۔

    (بخاری، جلد اوّل، کتاب الاذان، حدیث نمبر 576 )
  • حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے شیطان پادتا ہوا پیٹھ موڑ کر چل دیتا ہے ۔ اس لئے کہ اذان نہ سنے (اس کو اذان سننا گوارا ہے) جب اذان ہو چکی ہوتی ہے تو پھر آتا ہے ۔ اور جب نماز کی تکبیر ہوتی ہے توپیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے جب تکبیر ہو جاتی ہے تو پھر آ تا ہے اور نمازی اور اس کے دل میں خطرہ ڈالتا ہے کہتا ہے فلانی بات یا دکر، وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو نمازی کو یاد ہی نہ تھیں آخر وہ بھول جاتا ہے کتنی رکعات پڑھیں۔

    (بخاری ، جلد اوّل کتاب الاذان، حدیث نمبر 579 )
  • حضرت عبداللہ بن ابی صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا میں دیکھتا ہوں تجھ کو جنگل کا رہنا اور بکریاں چرانا پسند ہے ، پھر جب تو اپنی بکریوں یا جنگل میں ہو اور نماز کے لئے اذان دے تو بلند آواز سے اذان دے کیونکہ جہاں تک موذن کی آواز پہنچتی ہے جن اور آدمی یا کوئی اس کی آواز سنتا ہے وہ قیامت کے دن اس پر (گواہ بنے گا) گواہی دے گا ۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے یہ آنحضرت ﷺسے سنا ہے۔

    (بخاری ، جلد اول، کتاب الاذان ، حدیث نمبر 580 )
  • حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا جب تم ا ذان سنو توجو موذن کہتا جائے وہی تم بھی کہتے جاؤ۔

    (بخاری، جلد اول، کتاب الاذان، حدیث نمبر 582 )
  • حضرت یحییٰ ؒ نے کہا مجھ سے میرے ایک بھائی نے کہا، جب موذن نے حی علی الصلوٰۃ کہا تو معاویہ رضی اللہ نے لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہا اور کہنے لگے ، میں نے تمہارے پیغمبر ﷺسے ایسا ہی کہتے سنا ہے۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الاذان، حدیث نمبر 584 )
  • حضرت عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اذان سن چکے پھر یوں دُعا کرے اے میرے اللہ جو اس پوری پکار کا ربّ ہے اور قائم رہنے والی نماز کا ،محمد ﷺ کو (قیامت کے دن) وسیلہ عنایت کر اور بڑا رتبہ اور مقام محمود پر اِن کو کھڑا کر جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا تو قیامت کے دن میری شفاعت اس کے لئے ضرور ہوگی۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الاذان، حدیث نمبر 585 )
  • حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر لوگ جانتے ہوتے جو (ثواب) اذان اور پہلی صف میں ہے پھر بغیر قرعہ ڈالے ان کو نہ پاسکتے تو بے شک اِن پر قرعہ ڈالتے۔ اور اگر وہ جانتے جو (ثواب) ظہر کی نماز کے لئے سویرے جانے میں ہے تو اسکے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے۔ اگر جانتے جو (ثواب ) عشاء اور فجر کی نماز میں میں ہے تو گھسٹتے ہوئے اِن کے لئے آتے۔

    (بخاری ، جلد اوّل، کتاب الاذان ، حدیث نمبر 586 )
  • حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر اذان اور تکبیر کے بیچ میں نماز ہے۔ ہر اذان اور تکبیر کے بیچ میں نماز ہے تیسری بار بھی یہی فرمایا اتنا زیادہ کیا جو چاہے۔

    (بخاری، جلد اوّل، کتاب الاذان حدیث نمبر 597 )
  • حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن مؤذن کی گردن تمام لوگوں (کی گردنوں) سے لمبی ہو گی۔

    (مسلم ، کتاب الصلوٰۃ)
1 2 3 

23

اعتقاد

نیکیاں

حقوق ومعاشرت

منکرات

شان رسول ﷺ

فضائل

دعا ئیں

متفرق